اوکاڑہ: عبداللہ طاہر قتل کیس کے حوالے سے اہلِ خانہ کی جانب سے مزید ویڈیو بیانات سامنے آگئے ہیں، جن میں مقتول کے اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے واقعے کا نوٹس لینے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
عبداللہ طاہر کے اہلِ خانہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ طاہر ایک اچھے انسان تھے اور ان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اہلِ خانہ نے ان کے قتل کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اصل ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عبداللہ طاہر کی فیملی سے متعلق سامنے آنے والے ویڈیو پیغامات میں ان کی قریبی رشتہ دار، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، نے بھی واقعے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی گئی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
اسی حوالے سے ریحان بانو، عبداللہ طاہر کی صاحبزادی، کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے۔ ریحان بانو نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے بھائی ایک اچھے انسان تھے اور ان کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کو ناحق قتل کیا گیا، اس لیے حکومت پنجاب واقعے کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔
اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ عبداللہ طاہر قتل کیس کی تحقیقات کو شفاف بنایا جائے اور تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کا تعین کیا جائے۔
خاندان کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اگر کسی فرد کا جرم میں کردار ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عبداللہ طاہر قتل کیس کے حوالے سے سامنے آنے والے ان ویڈیو بیانات کے بعد معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے اہلِ خانہ کے مطالبات پر کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔
Abdullah Tahir Abdullah Tahir Murder Case
Abdullah Tahir, Abdullah Tahir Murder Case, عبداللہ طاہر، عبداللہ طاہر قتل کیس، Abdullah Tahir Family Statement، وزیراعلیٰ پنجاب، عبداللہ طاہر فیملی
